بسم اللہ الرحمن الرحیم
۔۔۔۔۔رَفْع۔ مَرْفُوْع۔ رَافِع۔۔۔۔۔
رفع : نحو میں رفع کسی لفظ پر فاعل والی علامت ہونے کو
کہتے ہیں ۔
عربی میں فاعل کی تین علامات ہیں۔ ضمّہ،
الف ما قبل مفتوح، واؤ ما قبل مضموم۔
جیسے۔ خَتَمَ اللہُ ۔ اس جملے میں لفظ اللہ فاعل ہے اور اس کے اوپر
ضمہ اس کے فاعل ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے ہم کہیں گے کہ اس جملے میں لفظ اللہُ
پر رفع ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ لفظ اللہُ فاعل ہے۔
جیسے۔ قَرَءَ الْقَارِئَانِ ، اس جملے میں قَرَءَ فعل ہے اور لفظ القارئان فاعل ہے۔ اس میں الف ماقبل مفتوح اس کے فاعل ہونے کی علامت
ہے۔ اس لیے ہم کہیں گے کہ اس جملے میں لفظ القارئان پر رفع ہے، جس کا
مطلب یہ ہوگا کہ لفظ القارئان فاعل ہے۔
جیسے۔ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ۔ اس جملے میں صَدَقَ فعل ہےاور لفظ اَلْمُرْسَلُوْنَ فاعل ہے۔ اس میں واؤ ماقبل مضموم اس کے فاعل ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے ہم کہیں
گے کہ اس جملے میں لفظ المرسلون پر رفع ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ لفظ اللہ اس جملے میں فاعل ہے۔
مرفوع : جس لفظ پر رفع ہو۔ اسے مرفوع کہا جاتا
ہے۔
یعنی ایسا لفظ جو جملے میں فاعل بن رہا ہو۔ ایسا لفظ جس پر
فاعل کی علامات میں سے کوئی علامت ہو۔ اسے مرفوع کہتے ہیں۔
جیسے ختم اللہ میں لفظ اللہ مرفوع ہے۔
جیسے قرء القارئان میں لفظ القارئان مرفوع ہے۔
جیسے صدق المرسلون میں المرسلون مرفوع ہے۔
رافع : اگر
کسی لفظ پر فاعل والی علامت آتی ہے تو اس علامت کے آنے کی کوئی وجہ ہوتی ہے اس
کے پیچھے کوئی عامل (فیکٹر) ہوتا ہے۔ اس عامل کو رافع کہتے ہیں۔
جیسے۔ ختم اللہُ میں ختمَ کی وجہ سے لفظ اللہ
پر رفع آیا ہے۔ اس میں ختم رافع ہے۔
جیسے ۔ قرء القارئان میں قرءَ کی وجہ لفظ القارءان پر رفع آیا ہے۔ اس
میں قرء رافع ہے۔
جیسے۔ صدق المرسلون میں صدق کی وجہ سے المرسلون پر رفع آیا ہے۔ اس میں صدق رافع ہے۔
No comments:
Post a Comment