اردو زبان کی ابتدا
خلجیوں کے دور حکومت کا ایک اہم ترین
واقعہ یہ بھی ہے کہ انہی کے دور حکومت میں ہندوستان میں اردو زبان کی بنیاد پڑی۔
اس زبان کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ جب مسلمانوں کی حکومت برعظیم ہندوستان کے کونے
کونے میں پھیل گئی اور اس ملک میں ترک، افغانی، ہندوستانی اور دوسری قوموں کا
باہمی اختلافات شروع ہوا تو ایک ایسی نئی زبان خود بخود پیدا ہوگئی جس میں عربی،
فارسی، ترکی اور ہندی الفاظ شامل تھے تاکہ سب قومیں میں بلا امتیاز مذہب و ملت ایک
دوسرے کی بولی سمجھ سکیں۔
شروع شروع میں ملے جلے الفاظ کی اس زبان
کو لشکروں میں رواج حاصل ہوا۔ کیونکہ لشکروں میں ترک، افغانی، ہندوستانی اور دوسری
قوموں کے سپاہیوں کو ایک ساتھ رہنا پڑتا تھا اور ان کو ایسی زبان کی شدید ضرورت
تھی جسے سب لشکری سمجھ سکیں اور بول سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئی زبان کو ¶“زبان
اردو” یعنی لشکری زبان کہا گیا۔ پہلے تو یہ زبان صرف لشکروں تک محدود رہی۔ اس کے
بعد لشکروں سے نکل کر اردو رفتہ رفتہ ہندوستان کے عوام میں بڑی تیزی کے ساتھ
پھیلنے لگی۔
اردو یعنی لشکری زبان کو ترقی دینے میں
ہندوستان کے مشہور بزرگ اور فارسی زبان کے نامور شاعر حضرت امیر خسرو کا بہت بڑا
حصہ ہے جنہوں نے سب سے پہلے اس نئی زبان میں گیت لکھ کر اس زبان کو مقبول عام
بنایا۔
حضرت امیر خسرو کے گیتوں کو اس قدر
مقبولیت حاصل ہوئی کہ وہ مختصر سے عرصہ میں سارے ملک میں پھیل گئے۔ حضرت امیر خسرو
۶۵۲ھ (۱۲۵۴ء) میں ناصرالدین محمود کے عہد حکومت میں پیدا ہوئے تھے۔ خلجیوں کے دور حکومت
میں ۷۸۹ھ (۱۲۹۰ء) سے لے کر ۷۲۱ھ (۱۳۲۱ء) تک ان کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ ان
کی شہرت ہندوستان کے کونے کونے میں پہنچ گئی۔ حضرت امیر خسرو‘ شیخ سعدی کے ہم عصر
تھے۔ یہ ابتداء میں صرف فارسی زبان میں نظم و نثر لکھتے تھے۔ لیکن خلجیوں کے دور
حکومت میں انھوں نے ہندی یعنی اردو کے جو گیت لکھے ان کو بے حد مقبولیت اور ہر
دلعزیزی حاصل ہوئی اور ان گیتوں کی وجہ سے اردو یعنی لشکری زبان فوجوں اور عوام سے
گزر کر شاہی محلوں تک جا پہنچی۔ حضرت امیر خسرو کا انتقال ۷۲۵ھ (۱۳۲۵ء) میں اسی سال ہوا ہے جس سال کہ غیاث
الدین تغلق فوت ہوا ہے۔
خلجیوں کے دور حکومت میں اردو زبان صرف
بولنے ہی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے باوجود کہ حکومت کی زبان فارسی تھی، اردو
کتابوں کی تصنیف کا دور بھی شروع ہوگیا تھا۔ چنانچہ شیخ عین الدین گنج العلم کے
اردو رسالوں کی تصنیف کا سلسلہ خلجیوں کے آخری دور حکومت ہی سے شروع ہوگیا تھا۔
اردو زبان کی ترقی میں مسلمانوں کی طرح ہندوؤں نے بھی بڑا حصہ لیا، کیوں کہ یہ ان
کی قدیمی زبان ہندی سے بہت مشابہہ تھی اور اس میں ان کی قدیم زبان کے ۵۷ فیصد الفاظ شامل تھے۔ فارسی زبان کے
مقابلہ میں کیوں کہ ان کے لیے اس نئی ہندوستانی زبان کا سمجھنا اور لکھنا بہت آسان
تھا اس لئے انہوں نے بہت جلد اس نئی زبان کو اپنا لیا۔
اردو زبان شروع ہی سے دونوں رسم الخطوں
میں، یعنی فارسی اور دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ ہندوستان کی تمام قومیں
چوں کہ اس زبان سے دلچسپی لے رہی تھیں اس لیے اس کو بہت جلد بے حد ہردلعزیزی اور
مقبولیت حاصل ہوگئی اور آگے چل کر یہی اس برّعظیم کی قومی زبان بن گئی۔
ماخوذ از کتاب “ہندوستان پر اسلامی حکومت” صفحہ: ۲۸۰--۲۸۲
مصنف: شوکت علی فہمی۔
No comments:
Post a Comment